ریت سے موت تک

ان دنوں کی بات ہے جب وقت ریت کا ہوا کرتا تھا.. کب ہاتھ سے نکل گیا، پتا ہی نہیں چلا.. شکار کا شوق تھا، خدا خدا کر کے ایک چڑیا پکڑ ہی لی.. اسکو حلال کرنے کا مرحلہ درپیش آیا تو ایک کزن کی خدمات حاصل کی گئیں.. اس نے چڑیا کے گلے پہ چھری چلائی اور میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا. اگلے لمحے چڑیا بھی آدھ کٹے گلے کے ساتھ ہاتھ سے نکل گئی.. اور پتا نہیں کیوں جہاں میں چھپا تھا عین اسی جگہ نیم بیہوش چڑیا بھی آن گری... اور ریت کے وقت کی طرح دم نکلتا رہا...

اور پھر یہ ریت ہاتھ سے نکلتی اپنے پہ بیتی جب بشرا نے پوچھا کہ یار زرا بتائو یہ دم نکلتے وقت اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟؟

اب یہ بشرا کون ہے؟؟ یہ بھی ایک چیز ہے جس کو جب پتا چلا کہ بلھے شاہ رح سید سے آرائیں ہو گئے تو یہ ارائیں سے جھتیال ہو گئی...

  تو بات کچھ ایسی نکلی کہ روح بھی ریت سی ہے.. انسان کے جسم سے پھسل کر اپنے منبع میں جا ملتی ہے... بس اتنی تکلیف تو ہوتی ہے جتنا کوئی رشتہ ٹوٹتے وقت ہوتی ہے... آخر جسم اور روح کا رشتہ بھی تو ہوتا ہے نا... بے مروت سا سہی، لیکن طبعی عرصہ تو اکٹھے بیتتے ہیں نا...

بس یہی لمحہ بسمل سے تعبیر کیا جاتا ہے...

ململ سی ہے روح اور خار دار جنگل سی ہے دنیا..جو انسان جتنا جلدی اپنا دامن ان خاروں سے چھڑانا شروع کر دے گا اتنی ہی کم تکلیف دہ موت کا مزہ چکھے گا وہ انسان.. تبھی شاید انسان کو اس سفر پہ روانگی کے وقت ہلاکت، موت، رحلت،پردہ فرمانا، خالق حقیقی سے ملاقات اور وصال کے مقامات سے نوازا جاتا ہے.. آخر زبان خلق بھی تو نقارہ خدا ہے نا...

اب کیا کہا جائے کہ موت پہ تکلیف کیوں ہوتی ہے؟؟؟؟

ریت ہاتھ سے پھسلتی دیکھے اور دم نکلتا دیکھے تو شاید سوال باقی ہی نا رہے...
بہزاد

Post a Comment