الٹی گنگا

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک وٹو ۔۔ ''' الٹی گنگا '' آج 23 اکتوبر ،9 محرم اور جمعۃ المبارک کا دن تھا ۔کیوں کہ میرا تعلق پاکپتن سے ہے ۔اس لیے محرم کی باقی نسبتوں کے ساتھ اس مہینے بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا عرس مبارک بھی ہوتا ہے ۔اور بہشتی دروازہ بھی 6 محرم سے 10 محرم کی رات کو کھلتا ہے ۔ جس میں عقیدت مند لاکھوں کی تعداد میں حاضری دیتے ہیں ۔۔۔ آج کافی عرصے کے بعد میں جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک مسجد جا پہنچا ۔خطبہ شروع ہونے میں ابھی 20 منٹ باقی تھے ۔اور خطیب صاحب بڑے زور و شور سے اپنے نظریات لوگوں کے ذہنوں میں ڈال رہے تھے ۔وہ بار بار اس بات پہ زور دے رہے تھے کہ جو لوگ بابا فرید رح کے بہشتی دروازے کے خلاف باتیں کرتے ہیں وہ گستاخ ہیں ۔ایسے لوگ دین کے منکر ہوتے ہیں اور یہ لوگ آخرت میں شفاعت سے محروم رہیں گے اور سیدھے جہنم میں جائیں گے ۔ایسے گستاخ لوگوں سے میل جول رکھنے سے نبی پاک ﷺ ناراض ہوتے ہیں ۔دوسرے الفاظ میں وہ مسلمانوں میں بڑے زورو شور سے نفرت پھیلا رہا تھا ۔اور لوگ اس قدر محویت میں تھے جیسے خطیب صاحب کا ذاتی فلسفہ ہی اللہ و رسول ﷺ کا حکم ہو ۔۔۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس مسجد میں سارے بہشتی دروازے کو ماننے والے اور بزرگوں سے عقیدت رکھنے والے ہی آتے ہیں ۔بہشتی دروازے کے جو انکاری ہیں وہ اپنی مسجد میں ہوں گے ۔ اور آج کل لاوڈ اسپیکر کی بھی اجازت نہیں کہ جس سے خطیب صاحب کے احکامات دوسروں تک پہنچ سکیں۔تو پھر چاہیے تو یہ تھا کہ جو موجود ہیں یا ہم خیال ہیں ان کو مزید فضیلت وبرکتیں بتائی جاتیں ۔لیکن خطیب صاحب غیر موجود لوگوں کی برائیاں کرنے لگے ہوئے تھے۔اور مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے نفرت پھر رہے تھے ۔ جوں توں کر کے وقت ختم ہوا اور میں اسی سوچ میں ڈوبا واپس گھر چل دیا کہ میں نے بڑا عرصہ ہوا ان واعظین کے اسی رویہ کی وجہ سے مسجد تک جانا چھوڑ دیا تھا اور اللہ پاک سے دن رات دعائیں بھی کرتا تھا کہ اے اللہ پاک ہم سب کے دلوں کو قریب کر دے ۔ احساس عطا فرما ۔پم نفرت کا باعث نہ بنیں ۔لیکن ابھی تک واعظین و خطباء کی وہی روش ہے ۔میں اپنے خیال کی پرواز سے کچھ سال پیچھے ماضی میں چلا گیا ۔۔ میں نے جس علاقے میں زندگی گزاری وہاں پہ فرقے کے لحاظ سے ۔ دیوبندی ۔ اہل تشیع ۔بریلوی ۔ اہل حدیث ۔اپنی اپنی جماعت کے نظریات کی تبلیغ کو ہی اسلام کی خدمت سمجھتے تھے ۔۔ ان سب مسالک سے میرا بڑا قریبی تعلق رہا ہے ان سب کے مدارس میں کچھ نہ کچھ عرصہ علم دین بھی سیکھنے کی جسارت کی ۔۔۔۔بریلوی حضرات کے بہت سے جلسے اٹینڈ کیے ۔ میلاد شریف کی بہت سی مجلسوں میں حاضری دی ۔کافی جمعے ان کی نذر کیے ۔۔یہ حضرات اپنی مساجد میں ان موضوعات پہ ہی بات کرتے پائے جاتے ہیں کہ ۔ جو لوگ میلاد نہیں مناتے۔جو اذان سے پہلے درود و سلام نہیں پڑھتے،جو انگوٹھوں کو نہیں چومتے ۔گیارہویں نہیں کرتے یا گیارہویں والے کو نہیں مانتے ۔۔جو علم غیب کا انکار کرتے ہیں ، جو شفاعت کے دلائل مانگتے ہیں ۔جو پیر کو حاضر ناظر نہیں سمجھتے۔ ۔ وہ گستاخ ہیں ۔اللہ کے رسول ﷺ ان سے ناراض ہیں۔ایسے لوگوں سے تعلق رکھنا اپنی آخرت خراب کرنا ہے۔۔ دیوبندی حضرات کو بھی بڑے قریب سے جانا۔ان کے موضوعات کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ ۔تبلیغ ہی سب کچھ ہے ، جو تبلیغی جماعت کو برا کہتے ہیں ،جو میلاد مناتے ہیں ، جو جلوس و عرس مناتے ہیں ۔جو پیروں کو حاجت روا مانتے ہیں ،یہ سب بدعتی ہیں اور یہ سب گمراہ ہیں ۔ان سے مکمل طور پہ بچو ۔اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ ان سے ناراض ہیں ۔ اہل حدیث میرے بہت اچھے دوست تھے ۔ان کے علماء کے پاس بھی کافی سنگت رہی ۔یہ اپنی مساجد و خطباء میں بس یہی تلقین کرتے ہیں کہ ۔جو کسی امام کی تقلید کرتا ہے ،یا جو کسی مرشد کی پیروی کرتا ہے ۔یا کسی بھی بزرگ کو وصال کے بعد زندہ تصور کرتا ہے ۔ یاجو کافروں پہ حمل آور نہیں ہوتا ۔وہ دین سے خارج ہے ایسےٍ لوگوں سے تعلق رواداری ناجائز ہے ۔۔۔ اہل تشیع حضرات کے جذبات بھی ملتے جلتے ہی ہیں ۔یہ کہتے ہیں کہ جو آل رسول ﷺ کو ہماری طرح نہ مانے وہ دائرہ اسلام سے باہر ہے ۔جوحضرت علی رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل نہیں کہتا ۔جو محرم میں مجلس نہیں کراتا یا مجلس کو اچھا نہیں سمجھا ۔جو یزید کو کافر نہیں کہتا وہ خود کافر اور گستاخ اہل بیت ہے ۔۔۔۔ اتی لمبی تمہید بیان کرنے کا میرا مقصد کسی کی وکالت کرنا نہیں ۔نہ ہی میرے پاس اتنا علم ہے کہ میں کسی پہ بھی ہٹ کر سکوں یا کسی کو بھی دائرہ اسلام سے باہر چھوڑ آوں اور خود اس دائرے پہ مکمل قبضہ جما لوں ۔۔۔۔میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہر مسلک کا مسلمان اپنی ہی مسجد میں جاتا ہے اور اپنے مسلک کی محافل ہی اٹینڈ کرتا ہے ۔تو خطیب ۔مبلغ ، واعظین ، مقرر اور مجلس پڑھنے والے اپنے پاس موجود لوگوں کو اپنے نظریات و عقائد محبت سے سمجھائیں ۔اپنے عقائد کی برکتیں اور فضیلتیں بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہوتا کیا ہے سب کے سب ہی اپنی بات کرنے کی بجائے دوسرے کے گھر میں پہنچ جاتے ہیں ۔اقرار والوں کو حوصلہ اور نوید سنانے کی بجائے انکار والوں کی نفرت سکھاتے ہیں ۔ ہو کوئی اپنے متعلقین کو دوسروں کے خلاف کر رہا ہے۔دوسروں سے بائیکاٹ کا درس دیا جا رہا ہے ۔ہر مسلک اپنے نظریات کو ہی مکمل اسلام سمجھ بیٹھا ہے ۔ ایک دفعہ میں ایک سنی مسجد میں گیا ۔خطیب صاحب نے کوئی پونا گھنٹہ ماتم پہ شدت بھری تقریر کی۔۔ بعد میں مولوی صاحب سے پوچھا کہ کیا کوئی شیعہ بھی اس مسجد میں آتا ہے ۔ بولے ۔۔۔۔۔۔۔ بالکل بھی نہیں ۔ میں نے پوچھا ۔کیا کوئی سنی کچھی ماتم کرتا ہے ؟ بولے ۔ کبھی بھی نہیں نعوذ باللہ ۔ میں عرض کی ۔حضور تو پھر یہ پونا گھنٹا کس کو ماتم کی حقیقت سے آگاہ کر رہے تھے ؟۔ بات یہ ہے کہ۔!! نفرت انگیزی کا موقع ہاتھ سے ہم جانے نہیں دیتے۔ یہ واعظانِ ہنگامہ جو ، یہ قلمکاران ِ بے وقت، یہ علمائے بے محل اور یہ ناصحانِ بے سمت اگر یہ اپنے علم کے ہیجانی حصے سے رخصت لے لیں تو مذھب کا کون سا نقصان ہو جائے گا ۔ اور اس سلسلے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنی اپنی مسجد سے دوسروں کے خلاف شر انگیز تقریریں سن کے نمازی حضرات معاشرے میں جگہ جگہ اپنے مولوی کے حوالے دے کے مسلانوں میں دوری ڈال رہے ہوتے ہیں ۔ان پیشہ ورانہ مقررین کو حرف آخر سمجھنے والے مسلمان دین کی خدمت میں اسلام کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔کاش ہم اپنے سوہنے نبی ﷺ کی زندگی مبارک کو اپنے پہ لاگو کرتے ۔ نبی پاک ﷺ کی زندگی تو ساری کی ساری محبت بانٹنے اور خدمت خلق میں گزری ۔اور ہم ہیں کہ اپنے اپنے جماعتی منشور کو ہی قران وحدیث سمجھ بیٹھے۔اگر کوئی جوان اپنے علماء سے کوئی دوسرے مسلک کی حمائت کا مسلہ پوچھ بھی لے تو وہ اسے عربی قوائد و مطالب کی موشگافیوں میں ڈال کر یا من گھڑت تاریخی واقعات سنا کر بس اپنے نظریات پہ ہی ڈٹے رہنے کا حکم دیتے ہیں ۔ جاری ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک وٹو
Post a Comment